بریکنگ نیوز
بلاگ

سوشل میڈیا اور گرتا ہوا اجتماعی شعور

Admin User 19 مئی 2026 19
سوشل میڈیا اور گرتا ہوا اجتماعی شعور - الجزیرہ نیوز
کبھی کسی معاشرے کی پہچان اس کے مفکرین، ادیبوں، سائنسدانوں اور فنکاروں سے ہوا کرتی تھی۔ آج زمانہ بدل گیا ہے۔ اب قوموں کی فکری سطح کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ان کے ٹرینڈنگ سیکشن میں کون ناچ رہا ہے، کون چیخ رہا ہے، کون اپنی نجی زندگی بیچ رہا ہے اور کون گالم گلوچ کو ’’ریئلٹی‘‘ کا نام دے کر لاکھوں فالورز سمیٹ رہا ہے۔ہم ایک ایسے دور میں داخل ہو چکے ہیں جہاں کتاب سے زیادہ ’’کلپ‘‘ اہم ہے، مطالعے سے زیادہ ’’ری ایکشن‘‘ قیمتی ہے اور علم سے زیادہ ’’وائرل ہونا‘‘ کامیابی کا معیار بن چکا ہے۔میں نے آج تک ان مشہور وی لاگرز کے مکمل وی لاگز شاید ہی کبھی دیکھے ہوں۔ کبھی کبھار سوشل میڈیا پر ان کے کلپس نظر سے گزر جاتے ہیں اور اکثر یہی محسوس ہوتا ہے کہ اگر ذہنی آلودگی کو کسی بوتل میں بند کیا جا سکتا تو شاید اس کا لیبل یہی مواد ہوتا۔ یہ کوئی ذاتی برتری کا احساس نہیں بلکہ صرف ذوق اور معیار کا مسئلہ ہے۔ہر معاشرہ اپنے مقبول ترین چہروں سے پہچانا جاتا ہے، اور جب مقبولیت کا معیار شور، بازاری پن، ذومعنی جملے اور نجی زندگی کی نمائش بن جائے تو سوال فرد پر نہیں، پورے سماج پر اٹھتا ہے۔ چند روز قبل ایک ایسے ہی ’’سلیبرٹی‘‘ کا کلپ دیکھا۔ میں نے طنزاً لکھ دیا کہ ’’شعور اتنا بڑھ گیا ہے کہ اب کناروں سے اچھل اچھل کر باہر آ رہا ہے۔‘‘یہ جملہ دراصل اس مصنوعی شعور پر طنز تھا جسے ہمارے ہاں برسوں سے ایک سیاسی و سماجی فیشن کے طور پر بیچا جا رہا ہے۔ اب حالت یہ ہے کہ دلیل کی جگہ جذبات نے، مطالعے کی جگہ نعرے نے اور فہم کی جگہ اندھی عقیدت نے لے لی ہے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایک پوری نسل نے ’’بولنے‘‘ کو ’’سوچنے‘‘ پر فوقیت دے دی۔میرے اس جملے پر کچھ لوگوں نے ناراضی ظاہر کی۔ کسی نے بتایا کہ فلاں وی لاگر نے پاکستان میں اتنے کروڑ روپے لائے، کسی نے اسے معاشی کامیابی کا استعارہ بنا دیا۔ یہ دلیل سن کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے اخلاقی زوال کو جی ڈی پی (GDP) میں شامل کر لیا ہو۔ اگر صرف پیسہ کمانا ہی عظمت کا معیار ہے تو پھر دنیا کے کئی جرائم پیشہ لوگ بھی معاشی اعتبار سے ’’کامیاب‘‘ کہلائیں گے۔ سوال رزق کا نہیں، سوال اس راستے کا ہے جسے معاشرہ عزت دے رہا ہے۔اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم نے کامیابی کی تعریف بدل دی ہے۔ پہلے کامیابی کا تعلق کردار، علم، تہذیب، محنت اور تخلیقی صلاحیت سے ہوا کرتا تھا۔ آج کامیابی کا مطلب ہے زیادہ فالورز، زیادہ ویوز اور زیادہ شور۔ سوشل میڈیا نے شہرت کو جمہوری ضرور بنایا مگر اس کے ساتھ معیار کا جنازہ بھی نکال دیا۔ اب الگورتھمز اس چیز کو اوپر لے جاتے ہیں جو زیادہ چونکائے، زیادہ اشتعال دلائے یا زیادہ سطحی تفریح فراہم کرے۔ یوں ایک بے سُرا گلوکار، ایک فحش جملے بولنے والا یوٹیوبر یا نجی زندگی کی نمائش کرنے والا وی لاگر راتوں رات ’’آئیڈیل‘‘ بن جاتا ہے۔سماجی رویوں پر تنقید کے لیے ہمیشہ ریسرچ پیپر یا اعدادوشمار ضروری نہیں ہوتے۔ بعض اوقات معاشرے کی کھلی ہوئی حقیقتیں خود سب سے بڑی دلیل ہوتی ہیں۔ اگر ایک تعلیم یافتہ نوجوان، جس کے پاس ڈگری، تہذیب، اخلاق اور سلیقہ موجود ہو، مہینے کے بیس یا تیس ہزار پر دھکے کھا رہا ہو جبکہ دوسری طرف سطحی تفریح بیچنے والے لوگ لاکھوں کما رہے ہوں تو یہ صرف معاشی فرق نہیں بلکہ سماجی ترجیحات کا اعلان ہے۔ نوٹ: الجزیرہ نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
Admin User مزید خبریں →