چارسدہ کی معروف مذہبی شخصیت، سابق رکن صوبائی اسمبلی اور شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس ترنگزئی قاتلانہ حملے میں شہید ہوگئے۔ ذرائع کے مطابق مولانا محمد ادریس پر فائرنگ کا واقعہ ضلع چارسدہ کے علاقے اتمانزئی میں پیش آیا۔ واقعے میں دو پولیس اہلکار بھی زخمی ہوئے، مولانا محمد ادریس دورہ حدیث درس دینے کے لیے دارالعلوم اتمانزئی جارہے تھے کہ یہ واقعہ رونما ہوا، ان کی لاش ڈی ایچ کیو اسپتال منتقل کر دی گئی جہاں اطلاع ملتے ہی ان کے ہزاروں کی تعداد میں عقیدت مند پہنچ گئے۔شیخ الحدیث مولانا محمد ادریس کا شمار پاکستان کے نامور اور جید علماء کرام میں ہوتا تھا، پولیس ذرائع کے مطابق فائرنگ نامعلوم افراد کی جانب سے کی گئی، واقعہ کے بعد انہیں فوری طور پر اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ راستے میں ہی دم توڑ گئے، فائرنگ کے واقعے کے بعد ملزمان موقع سے فرار ہوگئے، تفتیشی ٹیموں نے موقع پر موجود سیف سٹی کیمروں کی مدد سے حملہ آوروں کی تصاویر حاصل کرلی ہیں اور دہشت گردوں کا تعاقب جاری ہے۔آئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید نے ملزمان کی فوری گرفتاری کیلئے احکامات جاری کردیے، انہوں نے کہا کہ ابتدائی شواہد کے مطابق واقعہ ٹارگٹ کلنگ ہے، ملوث عناصر کو جلد انجام تک پہنچایا جائے گا۔ مولانا محمد ادریس کی نماز جنازہ آج 5 مئی 2026ء بروز منگل سہ پہر 5:30 بجے ان کے آبائی گاؤں ترنگزئی ضلع چارسدہ میں اداء کی جائے گی۔ صدر اور وزیر اعظم کا اظہار افسوس صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف نے چارسدہ میں مولانا محمد ادریس ترنگزئی کی قاتلانہ حملے میں شہادت پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔